29 جون 2026 - 07:25
امریکہ کبھی بھی عہد و پیمان کا پابند نہیں رہا، پروفیسر گریگ سائمنز

سائمنز، مصنف اور یونیورسٹی کے پروفیسر نے کہا: امریکہ اور اسرائیل اپنے عہد و پیمان کی خلاف ورزی کا ثابت شدہ ریکارڈ رکھتے ہیں اور موجودہ مفاہمت نامہ بھی تنازع کو عارضی طور پر روکنے کی کوشش ہے، نہ کہ جنگ ختم کرنے کا عزم۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ مصنف اور ڈیفوڈل انٹرنیشنل یونیورسٹی کے پروفیسر گریگ سائمنز (Greg Simons) نے پریس ٹی وی سے گفتگو میں کہا: اسرائیل اور ریاستہائے متحدہ امریکہ اپنے عہد و پیمان اور خود سنبھالی ہوئی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی، اخلاقی اصولوں سے بے اعتنائی اور اپنے مفادات کی بنیاد پر عمل کرنے طویل ریکارڈ رکھتے ہیں اور اس حوالے سے کافی بدنام ہيں۔ میرے خیال میں جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے، وہ تنازع کو عارضی طور پر روکنے کی کوشش ہے، نہ کہ جنگ ختم کرنے کا عزم۔

سائمنز نے مزید کہا: حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ مکمل طور پر نیتن یاہو کے زیر اثر ہے اور عملاً اس کی خواہشات کے سامنے مزاحمت نہیں کر سکتا۔ اس معاملے میں بھی اس سے کہا گیا ہے کہ ایران کو ختم کر دو؛ ایک ہدف جو اب تک بھاری ناکامی کا شکار ہؤا ہے۔ البتہ یہ ناکامی انہیں اپنے عزائم سے باز نہیں رکھتی۔

پروفیسر گریگ سائمنز نے مذاکرات میں عہد و پیمان کی امریکی فریق کی خلاف ورزی کے پرانے ریکارڈ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی: اگر ہم بیک وقت ایران اور مغربی ایشیا کے ساتھ ساتھ، یوکرین اور روس کے تنازع کی پیش رفت کو دیکھیں، تو ہمیں ایک ہی طرز عمل کا نمونہ نظر آتا ہے۔ اب وہ کہتے ہیں کہ "الاسکا معاہدہ بنیادی طور پر کوئی معاہدہ نہیں تھا" اور یوں وہ اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ وہ اپنے وعدوں کے پابند نہیں ہیں اور کبھی بھی نہیں تھے۔ ان کا مقصد جنگ کا خاتمہ نہیں ہے، بلکہ وہ اسے عارضی طور پر روکنا چاہتے ہیں؛ کیونکہ وہ اس وہم میں مبتلا ہیں کہ وہ دوبارہ طاقت حاصل کر سکتے ہیں اور پھر اپنے بقول کام کو یکسر ختم کرسکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha